غزلیں اور گیت میں شاعری
غزلیں اور گیت کے زمرے میں خوبصورت کلام کا مطالعہ کریں۔
چاندنی رات کا ایک گیت
آغاز بقلم @Nuqta_e_Shauq
•
چاندنی رات کے اس پار کہیں
دل کا اک تار بجتا ہے ابھی
دیر تک گونجتی ہے یہ صدا
جیسے کوئی پرندہ بھولا ہوا
شام کی ٹھنڈی چھت پر بیٹھا
اپنی خاموشیوں میں گم ہو کر
اک پرانا سا نغمہ گاتا ہے
کھڑکیوں پر جو شبنم جمتی ہے
اس میں تیری ہنسی کی بو ہے ابھی
میں نے چائے کی پیالی رکھی ہے
اور بخارات میں تیرا چہرہ ہے
ہاتھ کی لکیروں میں اب تک
تیرے انگوٹھے کا نشان باقی ہے
یوں تو ہر رات ستارے گنتے ہیں
ہم نے بھی اک دو راتوں میں
تیرا نام لکھا تھا مٹی پر
بادل آیا، پونچھ گیا
پھر بھی کچھ نم رہ گئی مٹی
جیسے کوئی بات ادھوری رہ گئی
اب کوئی گیت مکمل نہیں ہوتا
کچھ سُر بیچ میں ٹوٹے رہتے ہیں
میں بھی چپ ہوں، تو بھی خاموش
درمیان میں اک ساز پڑا ہے
جس کے تار ابھی تک کھنکتے ہیں
چاندنی رات کے اس پار کہیں
دل کا اک تار بجتا ہے ابھی
دیر تک گونجتی ہے یہ صدا
جیسے کوئی پرندہ بھولا ہوا
شام کی ٹھنڈی چھت پر بیٹھا
اپنی خاموشیوں میں گم ہو کر
اک پرانا سا نغمہ گاتا ہے
کھڑکیوں پر جو شبنم جمتی ہے
اس میں تیری ہنسی کی بو ہے ابھی
میں نے چائے کی پیالی رکھی ہے
اور بخارات میں تیرا چہرہ ہے
ہاتھ کی لکیروں میں اب تک
تیرے انگوٹھے کا نشان باقی ہے
یوں تو ہر رات ستارے گنتے ہیں
ہم نے بھی اک دو راتوں میں
تیرا نام لکھا تھا مٹی پر
بادل آیا، پونچھ گیا
پھر بھی کچھ نم رہ گئی مٹی
جیسے کوئی بات ادھوری رہ گئی
اب کوئی گیت مکمل نہیں ہوتا
کچھ سُر بیچ میں ٹوٹے رہتے ہیں
میں بھی چپ ہوں، تو بھی خاموش
درمیان میں اک ساز پڑا ہے
جس کے تار ابھی تک کھنکتے ہیں
چاندنی رات کے اس پار کہیں
چاندنی رات کا ایک گیت
آغاز بقلم @Nuqta_e_Shauq
•
چاندنی رات کی چادر میں لپٹا ہوا
ایک خاموش ستارہ مری بانہوں میں ہے
دل کی گلیوں میں کوئی گیت ابھی زندہ ہے
جس کی آواز میں شامل ترا نام ابھی
کھڑکیوں پر کوئی دستک سی ہوئی ہے شاید
ہوا چلی ہے تو پتوں نے سر اٹھا دیکھا
میں نے سوچا کہ تجھے یاد کروں یا نہ کروں
نیند آئی تو خیالوں نے دھیرے سے کہا
رات بھر جاگتا رہتا ہوں تری یاد میں میں
صبح ہوتے ہی ستاروں کو بجھا دیتا ہوں
کوئی وعدہ نہیں، کوئی شکایت بھی نہیں
بس ترا نام لکھا ہے مری آنکھوں میں ابھی
یہ محبت بھی عجب شے ہے، نہ مانگی جائے
دل میں آ جائے تو پھر دل سے نکالی نہ جائے
چاندنی رات کی چادر میں لپٹا ہوا
ایک خاموش ستارہ مری بانہوں میں ہے
ایک خاموش ستارہ مری بانہوں میں ہے
دل کی گلیوں میں کوئی گیت ابھی زندہ ہے
جس کی آواز میں شامل ترا نام ابھی
کھڑکیوں پر کوئی دستک سی ہوئی ہے شاید
ہوا چلی ہے تو پتوں نے سر اٹھا دیکھا
میں نے سوچا کہ تجھے یاد کروں یا نہ کروں
نیند آئی تو خیالوں نے دھیرے سے کہا
رات بھر جاگتا رہتا ہوں تری یاد میں میں
صبح ہوتے ہی ستاروں کو بجھا دیتا ہوں
کوئی وعدہ نہیں، کوئی شکایت بھی نہیں
بس ترا نام لکھا ہے مری آنکھوں میں ابھی
یہ محبت بھی عجب شے ہے، نہ مانگی جائے
دل میں آ جائے تو پھر دل سے نکالی نہ جائے
چاندنی رات کی چادر میں لپٹا ہوا
ایک خاموش ستارہ مری بانہوں میں ہے
چاند کی چھت پر رکھی دعا
آغاز بقلم @Nuqta_e_Shauq
•
چاند کی چھت پر رکھی دعا
ہوا نے چراغ بجھا دیا
میں نے اپنے ہاتھوں سے
دھواں سینے میں بھر لیا
تم نے کہا تھا، رُکنا نہیں
میں نے کہا تھا، راستہ لمبا ہے
تم ہنس دیے، میں چل پڑا
دوری کا حساب کس نے رکھا ہے
اب شبِ ہجر کی ٹھنڈی چادر
اور دل کی سرد دیوار
میں دیوار سے سر ٹیکے بیٹھا
تم کہیں اور، خواب میں، بے قرار
سوکھے پتوں کی خوشبو آئی
جیسے کوئی پرانا خط کھلا
میں نے پڑھا، مگر نام نہ تھا
پھر بھی دل نے کہا، یہ تو تھا ملا
جو بجھ گیا، وہ چراغ نہیں
یہ تو بستی کا کوئی گھر تھا
تم لوٹ آؤ، تو جان سکوں
کس نے کس کو بھلا دیا، کون بے خبر تھا
ہوا نے چراغ بجھا دیا
میں نے اپنے ہاتھوں سے
دھواں سینے میں بھر لیا
تم نے کہا تھا، رُکنا نہیں
میں نے کہا تھا، راستہ لمبا ہے
تم ہنس دیے، میں چل پڑا
دوری کا حساب کس نے رکھا ہے
اب شبِ ہجر کی ٹھنڈی چادر
اور دل کی سرد دیوار
میں دیوار سے سر ٹیکے بیٹھا
تم کہیں اور، خواب میں، بے قرار
سوکھے پتوں کی خوشبو آئی
جیسے کوئی پرانا خط کھلا
میں نے پڑھا، مگر نام نہ تھا
پھر بھی دل نے کہا، یہ تو تھا ملا
جو بجھ گیا، وہ چراغ نہیں
یہ تو بستی کا کوئی گھر تھا
تم لوٹ آؤ، تو جان سکوں
کس نے کس کو بھلا دیا، کون بے خبر تھا
💌
آج کی نظم آپ کے ان باکس میں
اپنی منتخب کردہ زبان میں روزانہ صبح ایک منتخب کلام حاصل کریں، جب بھی کوئی نیا کلام شائع ہو۔